Toggle navigation
شاعری
نظم
غزل
مثنوی
نعت
حمد
قصیدہ
قطعہ
نثری نظم
شعری تراجم
شعری مزاح
نثر
نثر نگار
افسانہ
ناول
ناولٹ
ڈرامہ
خاکہ
مضامین
ادبی کالم
یاداشتیں
تنقید
نثری تراجم
انشائیے
فنون-لطیفہ
موسیقی
مصوری
خطاطی
رقص
فن تعمیر
رسائی ادب
سلام
مناقب
مرثیہ
شعرا
(current)
ای-کتاب
عالمی ادب
ارسال کریں
شکیل جاذب
Pakistan
غزل
حاصلِ عمر ہے جو ایک کسک باقی ہے
جب کبھی دل کے مضافات میں آجاتا ہوں
لرزتے ہونٹ کہیں بھلا خدا حافظ
جرعہ جرعہ تری تلخی کو نشہ کون کرے
کچھ لوگ مانتا ہوں مسائل سے آئے ہیں
صدائیں دیں نہ ہمیں یار ہم نکل لیے ہیں
کب پلٹ کر وہ تجھے دیدۂ تر دیکھیں گے
رہِ زندگی سے گزر رہا ہوں ترے خیال کی چھاؤں میں
اب جس کو ترستی ہے نظر اور کہیں ہے
داد و تحسین نہ مسند سرِ دربار ملی
جس کو دیکھا نہیں کئی دن سے
آسماں تھا تم تھے یا میرا ستارا، کون تھا
لایا ہے یہی جرم سرِ دار مجھے بھی
کیا کیا تیرے فقیر کو حاصل نہیں رہا
تغافل بھی برتنا دھڑکنیں ہمراز بھی کرنا